ابنا: پانی کے نکاس نہ ہونے سے متاثرہ علاقوں میں شدید تعفن پھیل رہا ہے۔دادو میں کاچھو کے علاقے گاوٴں واہی پاندی میں پیٹ کے مرض میں مبتلا 9ماہ کا بچہ جاں بحق ہوگیا جبکہ کاچھو میں 5روز کے دوران 8بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔انتظامیہ نے علاقے کے کچھ دیہات میں امدادی اشیا پہنچانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔کاچھو کے کئی علاقوں میں اب بھی سیلابی پانی کئی کئی فٹ کھڑا ہے۔ جھڈو میں 15 روز سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے سے تمام رابطہ سڑکیں بند ہیں۔علاقے کی مرکزی شاہراہیں زیر آب آجانے سے انفرا انسٹرکچر بری طرح متاثرہوا ہے، دیہی علاقوں میں غذائی اور طبی سہولتیں نہ ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ضلع سانگھڑ میں ابھی تک کئی کئی فٹ آلودہ پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے تعفن پھیل رہا ہے جس نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سیم نالے ٹوٹے ہوئے ہیں جس کے باعث پانی نہیں نکل پارہا ہے۔ حالیہ بارشوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بدین میں اب بھی سیم نالوں سے نکلنے والا پانی تباہی پھیلا رہاہے۔ڈیہی اور مینا میں سیلابی ریلوں سے مزید کئی دیہات زیر آب آگئیہیں۔تحصیل ٹنڈو باگو کے سیکڑوں دیہات کا کئی روز سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔خوراک نہ ملنے اور گندے پانی کے باعث متاثرین سخت مشکلات کا شکار ہیں خاص طور پر خواتین اور بچے بڑی تعداد میں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوہے ہیں۔بدین شہر میں متاثرین نے امدادی اشیا کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دبی شاہ کے مقام پر کراچی بدین ہائی وے بلاک کردیا۔ نوشہروفیروز میں بھی بارش سے متاثرہ افراد نیامدادی سامان نہ ملنے پر نوشہروفیروز پڈ عیدن لنک روڈ پر دھرنا دیا او ٹائرجلا کر مین روڈ بلاک کردیا۔ ضلع بے نظیر آباد کے علاقوں سکرنڈ،دوڑ،قاضی احمد اور دولت پور میں اب بھی دو سے تین فٹ پانی جمع ہے۔ خیر پور کی تحصیلوں نارا ،فیض گنج ،ٹھری میر واہ اور رسول آباد میں سیلابی ریلوں سے بے گھر ہونے والے افراد اب بھی در در کی ٹھوکریں کھاتے اور محفوظ مقامات ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ان علاقوں میں پیٹ کی بیماریوں نے وبائی صورت اختیار کرلی ہے۔ ..............
/169